جیکٹ جیب خیال
قدرے سردی میں ہاتھوں کو جیکٹ کی جیب میں ڈالے اور چادر کو گلے میں لٹکا کر، بارش سے دھلی ہوئی نم سڑک جس پہ دکانوں کے برقی اشتہاروں کی روشنی منعکس ہو رہی تھی، قدم اٹھتے جا رہے تھے. ایک عجب سرشاری جو رگ و پے میں سرکتی ہوئی محسوس ہورہی تھی. میں اس سے پہلے کبھی ان سڑکوں سے نہیں گزرا تھا، ان راستوں نے اب تک آنکھوں میں پناہ نہیں لی تھی لیکن اس سب کے باوجود اس مٹی سے ایک تعلق محسوس ہوتا ہے جس کی بنیاد روز اول سے رکھی گئی تھی، مگر وہ آخری عہد جس کی بنیاد آج سے کئی سو سال پہلے رکھی گئی تھی. کل ملا کر یہی کوئی 14، 15 صدیاں جن سے زرا سا پہلے جو اب تک سینہ بہ سینہ، قدم بہ قدم، نسل در نسل چلتا آ رہا ہے. یہ تعلق پرانا نہیں ہوتا ہے، ہر دم ہر لحظہ ہر گھڑی استوار ہوتا ہے، بنتا ہے، ٹوٹتا ہے پھر جڑتا ہے. مسلسل جاری و ساری اس قلبی تعلق سے جڑتے ہی دنیا کی ہر شے ہم ساز و ہم آواز محسوس ہوتی ہے، جیسے اس سب کا مرکز بھی ہمارے مرکز کی طرح ایک ہے، ہم سب ایک ہی سمت میں لوٹنے والے ہیں ایک ہی بھٹی کے تیار کوزہ گر کی تخلیق ہیں جس کے گرد کائنات ایک مخصوص مدار میں گھوم رہی ہے. اففف یہ فکری لذت جو خیال کو کائنات سے ہم رفتار کرنے کے نتیجے میں لمحے کے ہزارویں حصے میں پیدا ہو کر خود کو محسوس ہو جانے کے احساس کو چھوتے ہی غائب ہو جاتی ہے.
قدم اب بھی اٹھے جا رہے ہیں، روشنیاں منعکس ہو رہی ہیں، ہاتھ بدستور جیکٹ کی جیب میں ہیں.
مگر وہ لذت احساس کہاں،، معنی کہاں... اظہار کہاں...سب بکھرا پڑا ہے.
انس
8 دسمبر 2019
Comments
Post a Comment