پارک
یونیورسٹی سے آستانہ عالیہ ہاسٹلیہ سیفوکیہ تک کے سفر میں بغیر کچھ سوچے سمجھے قدم اٹھتے ہی چلے جاتے ہیں ، ایسے محسوس ہوتا ہے گویا جسم خودکار نظام حرکت پہ ڈھل چکا ہو، اسی دوران آدھے راستے میں خیال آ دھمکا کہ کیوں نہ اتاترک پارک جا کر خزاں کے رنگ دیکھے جائیں، چنانچہ واپس پلٹے مگر اب ہوش و حواس جاگ چکے تھے، اور چلتے چلتے کہ" کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ" ہم پہنچ گئے.جہاں حساس درخت اپنی حساسیت اور سخت مزاج اشجار اپنے سختی کا مظاہرہ کرتے نظر آ رہے تھے ، پیروں اور ہاتھوں سے خشک خش ک پتے مسلے، آنکھیں خیرہ کیں اور پارک کا طول و عرض ماپنا شروع کیا، آخر میں دوسرے دروازے سے نکلتے ہوئے ایک بی اماں پہ نظر پڑی جو کئی بلیوں کے درمیان بیٹھ کر بلی کو سینے سے لگا کر اسکی آنکھ میں دوا ڈال رہیں تھیں، خاکسار عادت سے مجبور جا پہنچا انکے پاس، ملک کا نام بتایا تو انہوں نے انجان بنتے ہوئے کہا کہ" ہندوستان سے ہو؟". میں نے دل میں کہا جو مرضی سمجھ لیں ایک ہی بات ہے،اب میں کیا آپ کو کہانی سمجھاؤں آپکو میری زبان نہیں آتی اور مجھے آپکی. خیر وہ تو ہندوستان کو اس لیے جانتی تھیں کہ انہوں نے ہندوس...