Posts

Showing posts from November, 2019

پارک

Image
یونیورسٹی سے آستانہ عالیہ ہاسٹلیہ سیفوکیہ تک کے سفر میں بغیر کچھ سوچے سمجھے قدم اٹھتے ہی چلے جاتے ہیں ، ایسے محسوس ہوتا ہے گویا جسم خودکار نظام حرکت پہ ڈھل چکا ہو، اسی دوران آدھے راستے میں خیال آ دھمکا کہ کیوں نہ اتاترک پارک جا کر خزاں کے رنگ دیکھے جائیں، چنانچہ واپس پلٹے مگر اب ہوش و حواس جاگ چکے تھے، اور چلتے چلتے کہ" کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ" ہم پہنچ گئے.جہاں حساس درخت اپنی حساسیت اور سخت مزاج اشجار اپنے سختی کا مظاہرہ کرتے نظر آ رہے تھے ، پیروں اور ہاتھوں سے خشک خش ک پتے مسلے، آنکھیں خیرہ کیں اور پارک کا طول و عرض ماپنا شروع کیا، آخر میں دوسرے دروازے سے نکلتے ہوئے ایک بی اماں پہ نظر پڑی جو کئی بلیوں کے درمیان بیٹھ کر بلی کو سینے سے لگا کر اسکی آنکھ میں دوا ڈال رہیں تھیں، خاکسار عادت سے مجبور جا پہنچا انکے پاس، ملک کا نام بتایا تو انہوں نے انجان بنتے ہوئے کہا کہ" ہندوستان سے ہو؟". میں نے دل میں کہا جو مرضی سمجھ لیں ایک ہی بات ہے،اب میں کیا آپ کو کہانی سمجھاؤں آپکو میری زبان نہیں آتی اور مجھے آپکی. خیر وہ تو ہندوستان کو اس لیے جانتی تھیں کہ انہوں نے ہندوس...

لائبریر

یونیورسٹی لائبریری کے نگران ترک آرمی کے ریٹائرڈ کرنل ہیں ، علامہ محمد اقبال رح اور جنرل ضیاءالحق کے شدید مداح ہیں اور ذکر کرتے نہیں تھکتے ، اسی سبب اہل پاکستان سے محبت بھی کرتے ہیں ، ریٹائرڈ کرنل ہونے کے باوجود خود اٹھ کر اپنے سارے کام کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ایک بار لائیبریری کی لفٹ جو کہ ملازمین یا فیکلٹی کے لیے مختص ہے ،اس میں چھوڑنے گئے اور وہاں اپنا کارڈ سویپ کیا۔ ایک اور طالب علم جو مراکش سے تعلق رکھتے ہیں انسے مزکورہ صاحب کے طرز عمل کا ذکر کیا تو انکا تبصرہ نہایت دلچسپ تھا ۔۔۔ کہتے ہیں کہ ترکی کبھی پاکستان ، بھارت ، لیبیا ، مراکش وغیرہ کی طرح کسی بیرونی ملک کی کالونی نہیں رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!! کس قدر مکمل بات ہے ۔۔۔ ! 6-oct-19

کتاب

استنبول یونیورسٹی شعبہ اردو میں "ترکی میں پاشا" (از طاہر انوار پاشا) کی تقریب رونمائی میں شرکت ڈاکٹر خلیل طوقار    صاحب سے ملاقات ہوئی اور بھر پور تنگ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا  . وہیں وقار بادشاہ بھائی جو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے سابق طالب علم ہیں انہوں نے بھی پہچان لیا اور ہم نے بھی، گو کہ انکو امید نہیں تھی کہ ہم پہنچ پائیں گے. یبانجی جو ہوئے  سب سے اہم بات تقریب میں پاکستان اور ترکی کے جھنڈے کے ساتھ کشمیر کا جھنڈا بھی رکھا ہوا تھا 1-oct-19

پہلا منظر

کل استنبول میں جس مقررہ مقام پہ بس سے اترنا تھا وہاں نہیں اتر سکا، اگلے سٹاپ پہ اترے تو منظر بدلے ہوئے تھے، اور مسلسل سفر سے چراغوں میں پہلے ہی روشنی بہت کم تھی ، پتہ سمجھ نہیں پایا چلتے چلتے رات گئے ایک سبزی فروش ترک سے رستہ پوچھا، انہوں نے کمال محبت سے رستہ سمجھایا پھر میرے ساتھ سامان دیکھ کر بیٹے کو گاڑی لانے کا کہا اور مجھے جہاں جانا تھا وہاں تک بلا معاوضہ چھوڑ کر آئے . کچھ پیسوں پہ اصرار کیا تو کہنے لگے "پاکستان کاردش کاردش " 24-sep-19